بلوچستان میں بلوچ سرمچاروں کے ہاتھوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہلاک فوجی اہلکاروں کے لواحقین کا احتجاج
پنجاب کے شہر ملتان میں دو درجن افراد نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ۔
اس احتجاج میں بلوچ لبریشن آرمی کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے والے ٹرین میں ہلاک فوجی اہلکاروں کے لواحقین نے شرکت کی اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے بی ایل اے کے خلاف کاروائی کی اپیل کی ۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرکے اس کو ہائی جیک کرلیا گیا تھا۔ہائی جیک کے دوران بی ایل اے نے تمام سویلین کو چھوڑ دیا اور ریل میں سوار 214 پاکستانی فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا۔
بی ایل اے نے یرغمالیوں کی رہائی کو قیدیوں کے تبادلے سے منسوب کیا تھا اور حکومت پاکستان کو 48 گھنٹے کی الٹی میٹم دی جبکہ پاکستان نے اپنی جنگی قیدیوں کی رہائی کیلیے مزاکرات کا راستہ اپنانے کی بجائے پاکستانی فوج نے آپریشن کا آغاز کردیا جسکے ردعمل میں بی ایل اے نے تمام یرغمال پاکستانی فوجی اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔
اس حملے کے بعد، مقبوضہ بلوچستان سے پاکستان کے لیے ٹرین سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی۔